مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ باب: مدبر غلام (جس کی آزادی مالک کی موت پر مشروط ہو) کی فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلَامًا لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ. قَالَ عَمْرٌو: فَسَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ [ ص: 21 ] عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَزَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی نے غلام کو مدبّر بنا لیا اور اس کے پاس اس غلام کے علاوہ اور مال نہ تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ اس کو نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے خرید لیا۔ عمرو نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ ابوزبیر نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے کہ اس کا نام یعقوب تھا۔