مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ وَلَاءِ الْمَنْبُوذِ باب: لاوارث ملنے والے بچے (منبوذ) کی ولاء کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُنَيْنِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ: أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ؟ قَالَ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ لَهُ عَرِيفِي: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ وَلَكَ وَلَاؤُهُ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.بنو سلیم کے ایک آدمی سنین بن ابی جمیلہ سے روایت ہے کہ اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں راستے میں پڑا ہوا ایک بچہ ملا، تو وہ اسے لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے اس جان کو اٹھانے پر آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: ”یہ ضائع ہو رہا تھا لہذا اس کو میں نے اٹھا لیا۔“ ان کو میرے سردار نے کہا : ”اے امیر المومنین! یہ نیک آدمی ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا ایسا ہی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم چلے جاؤ، یہ بچہ آزاد ہے، اس کی ولاء تیرے لیے ہے اور اس کا خرچہ ہمارے ذمہ ہے۔“