مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ باب: ولاء (وراثت کا حق) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ [ ص: 15 ] لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالسَّابِعَ وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَهُمَا أَوَّلُ مَا فِيهِ.عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا مدد طلب کرنے کے لیے آئیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے آقا یہ پسند کرتے ہیں کہ میں تیری قیمت انہیں یکمشت دے کر تجھے آزاد کر دوں تو میں ایسا کرتی ہوں۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات اپنے آقا سے کہی تو انہوں نے کہا: ”نہیں، مگر یہ کہ تیری ولاء ہمارے لیے ہو۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یحییٰ نے کہا: عمرہ کا خیال ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ تو اسے خرید کر آزاد کر دے، بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“