مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ باب: ولاء (وراثت کا حق) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكَ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئی اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ چاندی، ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنے پر مکاتبت کی ہے، لہذا آپ میری مدد کریں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اگر تیرے آقا چاہیں تو میں یہ مال ان کو دینے کے لیے تیار ہوں، البتہ تیری ولاء میرے لیے ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں (پھر واپس آئیں) تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، اس نے آکر کہا: ”میں نے یہ بات ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے انکار کر دیا مگر یہ کہ ولاء کی نسبت ان کی طرف ہو۔“ یہ بات رسول اللہ ﷺ نے سنی تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ساری بات بتلائی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے لے لو اور ولاء کی شرط عائد کر لو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح کیا، پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی بنیاد اللہ کی کتاب میں نہیں، جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ زیادہ سچا اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے اور بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“