مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ باب: ولاء (وراثت کا حق) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا. فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقاؤں نے کہا: ”ہم اس شرط پر آپ کو بیچتے ہیں کہ اس کی ولاء ہمارے لیے ہو۔“ تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روک دے، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“