مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ الْعِتْقِ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ باب: مرضِ وفات (آخری بیماری) میں غلام آزاد کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمَالِيكَ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، أَوْ قَالَ: أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ مَمَالِيكَ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعَتْقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.عمران بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلاموں کو آزاد کر دیا، اور اس کا ان کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ یا فرمایا (راوی کو شک ہے کہ الفاظ یہ تھے کہ) اپنی موت کے وقت چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کے پاس ان کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، پھر ان غلاموں کو بلایا اور ان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے قرعہ اندازی کے ذریعے دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو غلام (ورثاء کی ملکیت) برقرار رکھا۔