مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة— آزادی، ولاء، مدبر، مکاتب اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک کا بیان
بَابُ الْعِتْقِ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ باب: مرضِ وفات (آخری بیماری) میں غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: أَعْتَقَتِ امْرَأَةٌ أَوْ رَجُلٌ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهَا، وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَالٌ غَيْرُهُ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَهُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ ذَلِكَ فِي مَرَضِ الْمُعْتِقِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ.حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت یا ایک مرد نے اپنے چھ غلام آزاد کیے، جبکہ اس کا اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ اس معاملہ کو نبی ﷺ کے سامنے لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ثلث (یعنی دو) کو آزاد کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ آزاد کرنے والے کی اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں وہ فوت ہوا۔