مسند الإمام الشافعي
كتاب الوقف والعمرى والرقبى— وقف، عُمرہ اور رُقبیٰ (مخصوص عطیات) کا بیان
بَابُ تَحْبِيسِ الْأَصْلِ وَتَسْبِيلِ الثَّمَرَةِ باب: اصل جائیداد کو روکنے اور اس کا پھل (منافع) اللہ کی راہ میں دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1063
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "احْبِسْ أَصْلَهُ وَسَبِّلْ ثَمَرَهُ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے بہتر مال مجھے پہلے کبھی نہیں ملا، اور میں نے اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی اصل ملکیت اپنے پاس رکھ، اور اس کے میوہ جات کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دے۔“