مسند الإمام الشافعي
كتاب الوقف والعمرى والرقبى— وقف، عُمرہ اور رُقبیٰ (مخصوص عطیات) کا بیان
بَابُ تَحْبِيسِ الْأَصْلِ وَتَسْبِيلِ الثَّمَرَةِ باب: اصل جائیداد کو روکنے اور اس کا پھل (منافع) اللہ کی راہ میں دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنِي ابْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي وَهُوَ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ خَيْبَرَ مَا لَا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَعْجَبَ إِلَيَّ وَأَعْظَمَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهُ وَسَبَّلْتَ ثَمَرَهُ" ، فَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ ثُمَّ حَكَى صَدَقَتَهُ بِهِ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر سے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے بہتر اور میرے نزدیک زیادہ عظمت والا مال کبھی نہیں ملا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو باغ کی ملکیت کو قائم رکھ اور اس کے میوہ کو اللہ کی راہ میں وقف کر دے۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے صدقہ کا طریقہ بیان کیا۔