حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: "حَبِّسِ الْأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ" .
حافظ محمد فہد

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خیبر سے سو حصوں کے مالک بنے جنہیں انہوں نے خریدا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے پہلے مجھے اس سے بہتر مال کبھی نہیں ملا، اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں۔“ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”باغ کی ملکیت کو تو قائم رکھ، اور اس کا میوہ اللہ کی راہ میں وقف کر دے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الوقف والعمرى والرقبى / حدیث: 1061
تخریج حدیث أخرجه ابن ماجة، الصدقات، باب من وقف (2397) والنسائي، الأحباس، باب حبس المشاع (3633، 3634، 3635) وصححه ابن خزيمة (2486) وابن حبان۔