مسند الإمام الشافعي
كتاب صدقة التطوع والهبة وصلة الوالد والأخ المشرك— نفلی صدقہ، ہبہ، اور مشرک والد و بھائی سے صلہ رحمی کا بیان
بَابٌ فِي الْهِبَةِ باب: ہبہ (تحفہ دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَحُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: إِنِّي وَهَبْتُ لِابْنِي نَاقَةً حَيَاتَهُ، وَإِنَّهَا تَنَاتَجَتْ إِبِلًا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هِيَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ. فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِهَا، فَقَالَ: ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا.حافظ محمد فہد
حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ اہل بادیہ میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا، میں نے اپنے بیٹے کو اونٹنی اس کی زندگی تک ہبہ کی تھی، اور اس نے کثرت سے اونٹ جنے۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ اونٹنی اسی کی ہے زندہ رہے یا مر جائے۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں نے اس پر وہ صدقہ کی تھی۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر یہ بات ہے تو پھر تو کسی صورت نہیں لے سکتا۔“