مسند الإمام الشافعي
كتاب النذور— نذروں اور منتوں کا بیان
بَابٌ مِنْهُ باب: اسی (نذر) کے متعلق ایک اور باب
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، [ ص: 298 ] عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَنَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالنَّاقَةُ عِنْدَهُمْ ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَةُ فَرَكِبَتِ النَّاقَةَ فَأَتَتِ الْمَدِينَةَ فَعُرِفَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْ أَنْجَانِيَ اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا فَمَنَعُوهَا أَنْ تَنْحَرَهَا حَتَّى يَذْكُرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَنْ نَجَّاكِ اللَّهُ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرِيهَا لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ" . وَقَالَا مَعًا أَوْ أَحَدُهُمَا فِي الْحَدِيثِ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ السَّيْرِ عَلَى الْوَاقِدِيِّ.عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قوم نے یلغار کی تو وہ انصار کی ایک عورت اور رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کو لے گئے۔ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھے، پھر عورت بھاگ نکلی اور اونٹنی پر سوار ہوئی۔ مدینہ آئی تو نبی ﷺ کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے مجھے اس کی پیٹھ پر بچا لیا تو میں اس کو نحر کروں گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ذبح کرنے سے روک دیا یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ سے یہ بات بیان کریں، جب انہوں نے نبی ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”برا بدلہ دیا تو نے اس کو، یہ کہ اللہ نے تجھے اس کی پیٹھ پر نجات دی اور تو اس کو نحر کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی اور جس کا ابن آدم مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان اور عبد الوہاب دونوں نے اکٹھا کہا یا ان میں سے ایک نے حدیث میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹھی کو پکڑ لیا۔