حدیث نمبر: 1035
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ أَمَا سَمِعَ مَا سَمِعَ أَصْحَابُهُ؟ . ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَيْهِ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: زَعَمُوا أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمَرْأَةِ الْحَائِضِ.
حافظ محمد فہد

طاؤس سے روایت ہے فرمایا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی بھی واپس نہ جائے یہاں تک کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے، تو میں نے کہا، انہیں کیا ہے؟ کیا انہوں نے وہ بات نہیں سنی جو ان کے ساتھیوں نے سنی؟ پھر میں (طاؤس) آئندہ سال (دوبارہ) ان کے پاس بیٹھا تو میں نے سنا وہ فرما رہے تھے: ان کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے حیض والی عورت کو رخصت دی ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1035
تخریج حدیث أخرجه البخاري، الحيض ، باب المرأة تحيض بعد الافاضة (330)، (1761) مرفوعا۔