مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ لَا يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ باب: کوئی حاجی اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس (طوافِ وداع) نہ ہو
حدیث نمبر: 1031
قَالَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ. قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِقَوْلِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ [الْحَجِّ: 33] مَحِلُّ الشَّعَائِرِ وَانْقِضَاؤُهَا الْبَيْتُ الْعَتِيقُ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج کرنے والوں میں سے کوئی بھی واپس نہ لوٹے یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے کیونکہ حج کا آخری عمل بیت اللہ کا (الوداعی) طواف ہے۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے خیال میں اور بہتر علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ یہ اللہ کے قول ”پھر اس کا حلال ہونا بیت اللہ کے پاس ہے“ کی تفسیر ہے کہ حج کے شعائر سے حلال ہونا اور ان کا ختم ہونا خانہ کعبہ کے پاس ہے۔