مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الطِّيبِ لِلْحِلِّ بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ وَقَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ باب: جمرہ کی رمی کے بعد اور طوافِ زیارت سے پہلے حلال ہونے کے لیے خوشبو لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَهَى عَنِ الطِّيبِ قَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ وَبَعْدَ الْجَمْرَةِ. قَالَ سَالِمٌ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ.حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے بیت اللہ کی زیارت سے پہلے اور رمی جمار کے بعد خوشبو لگانے سے منع کیا۔ پھر سالم نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھوں سے احرام کے لیے، احرام باندھنے سے پہلے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے حلال ہونے کے لیے خوشبو لگائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (اتباع کی) زیادہ حقدار ہے“