مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الطِّيبِ لِلْحِلِّ بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ وَقَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ باب: جمرہ کی رمی کے بعد اور طوافِ زیارت سے پہلے حلال ہونے کے لیے خوشبو لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 1020
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ فِي كِتَابِ الْإِمْلَاءِ: لِحِلِّهِ وَلِإِحْرَامِهِ، قَالَ سَالِمٌ: وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ تُتَّبَعُ.حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی۔“ فرمایا کہ کتاب الاملاء میں ہے کہ آپ ﷺ کے حلال ہونے اور احرام کے لیے (میں نے خوشبو لگائی) سالم نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ کی سنت زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔“