مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ تَعْجِيلِ الْإِفَاضَةِ وَالتَّهْجِيرِ بِهَا باب: واپسی میں جلدی کرنے اور دوپہر کے وقت کوچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ مَعَهَا نِسَاءٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ، فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْ لَهُنَّ أَنْ يَطْهُرْنَ فَتَنْفِرُ بِهِنَّ وَهُنَّ حُيَّضٌ.حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حج کرتیں اور انہیں حیض آجانے کا ڈر ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں یوم النحر کو ہی آگے بھیج دیتیں اور وہ طوافِ افاضہ کر لیتیں۔ اور اگر وہ اس کے بعد حائضہ ہو جاتیں تو انہیں طہر کی مہلت نہ دیتیں، بلکہ وہ ان کے ساتھ (مکہ سے) نکلتیں جبکہ وہ حالتِ حیض میں ہوتیں۔