کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: بہترین لوگوں اور بدترین لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟)) فَقَالُوا: بَلَى، فَقَالَ: ((الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟)) ، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: ((الْمَاشُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین افراد کے متعلق نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمہارے بہترین افراد) وہ لوگ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ کی یاد آ جائے، کیا میں تمہیں تمہارے بدترین افراد کے متعلق نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چغل خور، دوستوں کے درمیان لڑائی کرانے والے اور فساد و خرابی کے طلب گار۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 931
تخریج حدیث «سنن ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب من لا يويه له ، رقم : 4119 قال الالباني : ضعيف . صحيح ترغيب وترهيب ، رقم : 2824 . مسند احمد : 227/4 .»