کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: چغل خوری حرام ہے
حدیث نمبر: 925
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: ((أَتَدْرُونَ مَا النَّمِيمَةُ؟)) فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((نَقْلُ حَدِيثِ النَّاسِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ))وَقَالَ: لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ بَنِي آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَعْفُوا اللَّهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی (سابقہ) سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ «نميمة» کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی بات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا تاکہ وہ ان کے درمیان بگاڑ پیدا کرے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا، انسان کے نفس کو (قبر کی) مٹی ہی گھرے گی، اور اللہ جس سے چاہتا ہے درگزر فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 925
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الرقاق ، باب ما يتقي من فتنة المال ، رقم : 6436 . مسلم ، كتاب الزكاة ، باب لو ان لابن آدم وادين لا بتغي ثالثا ، رقم : 1049 . سنن ترمذي ، رقم : 2337 .»