کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: طلاق رجعی کا بیان
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ تَحْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ ضَرَبَهَا الطَّلْقُ فَكَتَمَتْهُ فَقَالَتْ: طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَطَلَّقَهَا، فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: ((بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطِبْهَا إِلَى نَفْسِهَا)) ، فَقَالَ: مَا لَهَا خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللَّهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
عمرو بن میمون بن مہران نے اپنے والد سے روایت کیا: انہوں نے کہا: ام کلثوم بنت عقبہ، زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ نماز کے لیے چلے گئے، اور ان (اہلیہ) کو درد زہ شروع ہو گیا اور اسے چھپائے رکھا، انہوں نے کہا: ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دیجیئے، پس انہوں نے ایک طلاق دے دی، وہ (نماز پڑھ کر) واپس آئے تو انہوں نے بچے کو جنم دے دیا تھا، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے قانون کے مطابق مقررہ وقت پورا ہو چکا، اسے پیغام نکاح دو۔“ انہوں نے کہا: اس نے مجھے دھوکہ دیا، اللہ اسے دھوکہ دے۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 594
تخریج حدیث «سنن ابن ماجه ، كتاب الطلاق ، باب المطلقة الحامل الخ ، رقم : 2026 . قال الشيخ الالباني : صحيح . سنن كبري بيهقي : 421/7 .»