کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 559
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا أَبُو مُنَيْنٍ، وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ)) ، قَالَ: فَتَطَاوَلَ لَهَا النَّاسُ، فَقَالَ: ((أَيْنَ عَلِيٌّ)) ، فَقِيلَ: إِنَّهُ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَدَعَاهُ فَبَزَقَ فِي كَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَمْضِيَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثًا مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آج پرچم ایسے شخص کے حوالے کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“ راوی نے بیان کیا: پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس (پرچم) کے ملنے کی امید لگائی (اور وہ دیکھنے لگے کہ پرچم کسے ملتا ہے) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ان کی آنکھ دکھتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ہاتھ پر لعاب دہن ڈال کر آنکھ پر مل دیا، پھر انہیں حکم فرمایا کہ جاؤ اور لڑو، پس اللہ نے اس دن ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن اپنے اہل کو گندم کی روٹی کھلا کر شکم سیر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفضائل / حدیث: 559
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب فضائل الصحابة ، باب من فضائل على ابن ابي طالب رضى الله عنه ، رقم : 2405 . صحيح ابن حبان ، رقم : 6933 .»