کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: دو رخ والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:تَجِدُوْنَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا وَتَجِدُوْنَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً وَتَجِدُوْنَ شَرَّ النَّاسِ ذّا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو کان کی طرح پاؤ گے، پس جو لوگ دور جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشرطیکہ وہ دین کا علم حاصل کریں، تم اس (حکومت) کے لائق سب سے بہتر اسے پاؤ گے جو ان میں سے اسے سخت ناپسند کرتا ہو اور تم دو رخ والے شخص کو سب سے برا پاؤ گے جو کہ ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس ایک دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفضائل / حدیث: 556
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب المناقب ، رقم : 3493 ، 3494 . مسلم ، كتاب فضائل الصحابة رضي الله عنهم ، باب خيار الناس ، رقم : 2526 . مسند الشهاب ، رقم : 606 .»