حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَالَ: ((هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ)) ، فَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبْيَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ "، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: ((هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں نے جب سے بنو تمیم کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین صفات سنی ہیں تب سے میں ان سے محبت کر رہا ہوں (اور یہ محبت جاری رہے گی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دجال کے بارے میں میری امت میں سے سب سے زیادہ سخت و قوی ہیں۔“ ان کی ایک لونڈی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ وہ بنو اسماعیل میں سے ہے۔“ اور بنو تمیم کے صدقات آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔“