حدیث نمبر: 356
اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ ذُوالْمَجَازِ، وَعُکَّاظٌ مَتْجَرَی النَّاسِ فِی الْجَاهِلِیَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْاِسْلَامُ، کَاَنَّهُمْ کَرِهُوْا ذٰلِكَ، فَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: ﴿لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَبِّکُمْ﴾ فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: دور جاہلیت میں ذوالمجاز اور عکاظ تجارتی مراکز تھے، جب اسلام آیا تو گویا کہ انہوں نے (ایام حج میں) اسے ناپسند کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ» ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ یعنی حج کے مہینوں میں (تجارت کرو)۔
حدیث نمبر: 357
اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ: وَسُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الْمُحْرِمِ، اَیُبِیْعُ وَیَبْتَاعُ؟ فَقَالَ: کَانُوْا یَتَّقُوْنَ ذٰلِکَ، حَتَّی نَزَلَتْ: ﴿لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَبِّکُمْ﴾ فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔ قَالَ: وَفِی قِرَاءَ ةِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ فَابْتَغُوْا حِیْنَئِذٍ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابن جریج نے بیان کیا: عطاء رحمہ اللہ سے احرام والے شخص کے متعلق پوچھا گیا، کیا وہ خرید و فروخت کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اس سے بچتے تھے، حتیٰ کہ یہ آیت: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ» ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ یعنی حج کے مہینوں میں۔