کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: نابالغ بچوں کی موت پر صبر کرنے والے والدین کی فضیلت
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ حَبِيبَةَ أَوْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: " كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَطْفَالٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا جِيءَ بِهِمْ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُمُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ: أَنَدْخُلُ وَلَمْ يَدْخُلْ أَبَوَانَا، فَقَالَ لَهُمْ: - فَلَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ - ادْخُلُوا الْجَنَّةَ وَأَبَوَاكُمْ، قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ [المدثر: 48] .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں، انہیں لایا جائے گا حتیٰ کہ انہیں باب جنت پر روک دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: کیا ہم داخل ہو جائیں جبکہ ہمارے والدین داخل نہیں ہوئے، تو انہیں کہا جائے گا: میں نہیں جانتا دوسری یا تیسری بار میں جنت میں داخل ہو جاؤ اور تمہارے والدین بھی، پس یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنائز / حدیث: 259
تخریج حدیث «التاريخ الكبير للبخاري : 452/1 . المعجم الكبير للطبراني : 224/24 . اسناده ضعيف واللحديث شواهد فى الصحيحين وغيرهما انطر ، بخاري ، رقم : 1193 . و مسلم ، رقم : 152 ، 150 . والترمذي ، رقم : 1060 .»