کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت
حدیث نمبر: 78
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَهُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ وَلَا فَخْرَ، بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ، وَکَانَ النَّبِیُّ قَبْلِیْ یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِهِ خَاصَّۃً، وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّةً وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَهُوَ اَمَامِیْ مَسِیْرَۃَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِیْ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ، وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ فَادَّخَرْتُہَا لِاُمَّتِیّ، فَهِیَ نَائِلَةٌ مَنْ لَا یُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَیْئًا.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے جو نبی تھے انہیں ان کی قوم کی طرف خصوصی طور پر مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ مجھے سارے لوگوں کی طرف عمومی طور پر مبعوث کیا گیا ہے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، وہ مہینے کی مسافت پر مجھ سے آگے ہوتا ہے، ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور باعث طہارت و پاکیزگی بنا دی گئی ہے، میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا ہے، جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، مجھے شفاعت دی گئی ہے، میں نے اسے اپنی امت کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے، وہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھراتا ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 78
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب المساجد ، رقم : 523 ، 521 . سنن ترمذي ، رقم : 1553 . سنن نسائي ، رقم : 432»
حدیث نمبر: 79
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ نَحْوَ۔ قَالَ: وَکَانَ مُجَاهِدٌ یَقُوْلُ: اَلْاَحْمُرُ وَالْاَسْوَدُ: اَلْجِنَّ وَالْاِنْس.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
عبیدی بن عمیر نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی مانند روایت کیا ہے، راوی نے بیان کیا، مجاہد رحمہ الله فرمایا کرتے تھے: سرخ و سیاہ سے مراد جن اور انسان ہیں۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 79
تخریج حدیث «انظر ما قبله»