کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: اہل ایمان کے ساتھ اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کر نہیں پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر وہ اس نیکی کو کر لیتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کرتا نہیں تو اس کے خلاف نہیں لکھی جاتی، اور اگر وہ اسے کر لیتا ہے تو وہ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 40
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب التوحيد ، رقم : 7501 . مسلم ، كتاب الايمان ، باب اذاهم العبد بحسنة الخ ، رقم : 130 . مسند احمد : 234/2»