کتب حدیث ›
مسند اسحاق بن راهويه › ابواب
› باب: بیٹا باپ سے چھوٹا بڑے عالم سے اظہار حق یا علمی اضافہ کی غرض سے مناظرہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 30
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقِيَ مُوسَى آدَمَ عَلَيْهَمَا السَّلامُ ، فَقَالَ : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلائِكَتَهُ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، فَأَخْرَجْتَ وَلَدَكَ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ لَهُ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاتِهِ وَكَلَّمَكَ ، فَأَنَا أَقْدَمُ أَمِ الذِّكْرُ ؟ فَقَالَ : لا ، بَلِ الذِّكْرُ ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے ملاقات کی تو کہا: آپ آدم ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا، اور آپ نے اپنی اولاد کو جنت سے نکلوا دیا، انہوں نے ان سے فرمایا: اے موسیٰ! آپ وہی ہیں کہ اللہ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی سے آپ کو مختص فرمایا، پس میں پہلے ہوں یا ذکر؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ ذکر، پس آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“