حدیث نمبر: 955
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

عطیہ نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (حدیث سابق) کے مثل روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب أحوال الاخرة / حدیث: 955
تخریج حدیث «سنن ترمذي ، رقم : 3243 . مسند احمد : 7/3 . صحيح الجامع الصغير ، رقم : 4592 . مسند ابي يعلي ، رقم : 1084 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
عطیہ نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (حدیث سابق، رقم: ۵۳۲) کے مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:955]
فوائد:
صور ایک قسم کا بگل ہوتا تھا، جو کسی جانور کے سینگ سے بنایا جاتا تھا۔حدیث میں مذکور صور سے مراد وہ صور ہے جو دنیا کے خاتمے پر بجایا جائے گا۔ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرَی فَاِِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ﴾ (الزمر: 68)
’’اور صور پھونک دیا جائے گا، پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔‘‘
ایک حدیث میں ہے کہ ایک بدو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک دیا جائے گا۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 1580)
مذکورہ بالاحدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسلمان کو آخرت کے واقعات کی گھبراہٹ اور فکر لاحق ہو تو ((حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰهِ تَوَکَّلْنَا)) پڑھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 955 سے ماخوذ ہے۔