مسند اسحاق بن راهويه
كتاب أحوال الاخرة— احوال آخرت کا بیان
باب: بدعتیوں کے حوضِ کوثر پر محروم رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 952
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَعَرَفْتُهُمْ حُجِبُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی (سابقہ) سند سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! کچھ لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، حتیٰ کہ جب وہ میرے قریب پہنچیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا، تو انہیں میرے نزدیک آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: میرے ساتھی ہیں، میرے ساتھی ہیں۔ بتایا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئے کام جاری کر لیے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی (سابقہ ۴۰۱) سند سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! کچھ لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، حتیٰ کہ جب وہ میرے قریب پہنچیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا، تو انہیں میرے نزدیک آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: میرے ساتھی ہیں، میرے ساتھی ہیں۔‘‘ بتایا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئے کام جاری کر لیے تھے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:952]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:952]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا حوض کوثر پر پانی پینے کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اسلام پر قائم رہے اور اسلام کی حالت میں فوت ہوئے۔ جنہوں نے بدعت کا ارتکاب کیا وہ قیامت کے روز حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ (بدعت کے متعلق دیکھئے شرح حدیث نمبر 395)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا حوض کوثر پر پانی پینے کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اسلام پر قائم رہے اور اسلام کی حالت میں فوت ہوئے۔ جنہوں نے بدعت کا ارتکاب کیا وہ قیامت کے روز حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ (بدعت کے متعلق دیکھئے شرح حدیث نمبر 395)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 952 سے ماخوذ ہے۔