حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَى: وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ، وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقَوبَةً، الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

عائشہ بنت طلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک کاموں میں حسن سلوک اور صلہ رحمی کا ثواب سب سے جلد ملتا ہے، اور زیادتی و قطع رحمی کی سزا سب برائیوں سے جلد ملتی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 934
تخریج حدیث «سنن ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب البغي ، رقم : 4212 . ضعيف الجامع الصغير ، رقم : 840 . سلسلة ضعيفه ، رقم : 2787 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
عائشہ بنت طلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نیک کاموں میں حسن سلوک اور صلہ رحمی کا ثواب سب سے جلد ملتا ہے، اور زیادتی وقطع رحمی کی سزا سب برائیوں سے جلد ملتی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:934]
فوائد:
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ انسان جیسا عمل کرے ویسا اُسے صلہ ملتا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((کَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ۔)) (الجامع الصغیر للسیوطي)
مثل مشہور ہے: جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی وغیرہ۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 934 سے ماخوذ ہے۔