حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا الْأَفْرِيقِيُّ، نا عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((شَرُّ أُمَّتِي الَّذِينَ غُذُّوا فِي النِّعَمِ وَنَبَتَتْ عَلَيْهِمْ أَجْسَامُهُمْ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے نعمتوں میں نشوونما پائی اور اس پر ان کے اجسام کی بڑھوتری ہوئی۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 921
تخریج حدیث «صحيح ترغيب وترهيب ، رقم : 2147 . قال الشيخ الالباني : حسن لغيره .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے نعمتوں میں نشوونما پائی اور اس پر ان کے اجسام کی بڑھوتری ہوئی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:921]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیسے کی ریل پیل میں آنکھ کھولتے ہیں یعنی سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور غربت ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتی ان کی زندگی کا مقصد عیش وعشرت کرنا اور مال کو دنیاوی لذتوں میں صرف کرنا ہوتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جنہیں مختلف نعمتوں سے نوازا گیا لیکن انہوں نے (آخرت کو بھلا کر) قسما قسم کے کھانوں اور رنگا رنگ کپڑوں پر بھر پور توجہ دینا اور فصیح و بلیغ گفتگو کرنے کے لیے باچھوں کو موڑنا شروع کر دیا۔ ‘‘ (سلسلة الصحیحة:1891)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 921 سے ماخوذ ہے۔