حدیث نمبر: 919
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَجَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزُّ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَظَمْتُهُ أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور عزت میرا «إزار» ہے، پس جس نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے کھینچنے کی کوشش کی تو میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 919
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب اللباس ، باب ماجاء فى الكبر ، رقم : 4090 . سنن ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب البراءة من الكبر والتواضع ، رقم : 4174 . قال الشيخ الالباني . مسند احمد : 427/2 . صحيح ابن حبان ، رقم : 5671 . مسند حميدي ، رقم : 1149 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور عزت میرا ازار ہے، پس جس نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے کھینچنے کی کوشش کی تو میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:919]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا تکبر سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہیے، کیونکہ متکبر اللہ ذوالجلال کی صفت ہے۔ اور جو تکبر کرتا ہے گویا کہ وہ اللہ ذوالجلال کی صفات میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
جس طرح رداء وہ کپڑا جو انسان اپنے جسم کے اوپر والے حصے پر اوڑھتا ہے اور ازار نیچے والے کپڑے کو کہتے ہیں جو بطور تہبند استعمال ہوتا ہے۔ ایک انسان کسی کو اپنی رداء اور ازار میں شریک نہیں کرتا تو اللہ ذوالجلال کا مقام ومرتبہ بے انتہا بلند و بالا ہے۔ کھینچنے سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ ذوالجلال کی صفات ہیں، ان صفات سے متصف ہونے کی کوشش کرنا یا دعویٰ کرنا تو ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے، کیونکہ تکبر کی معمولی مقدار بھی اللہ ذوالجلال کو پسند نہیں ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ (سنن ابن ماجة، رقم: 4173۔ اسناده صحیح)
تکبر کے متعلق اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا (دیکھئے حدیث: 69۔ 79)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 919 سے ماخوذ ہے۔