حدیث نمبر: 917
أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَافًا)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بقدر ضرورت روزی عطا فرما۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزهد / حدیث: 917
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الرفاق ، باب كيف كان عيش النبى صلى الله عليه وسلم واصحابه ، رقم : 6460 . مسلم ، كتاب الزكاة ، باب فى الكفاف والقناعة ، رقم : 1055 . سنن ترمذي ، رقم : 2361 . مسند احمد : 7173 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ! آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو بقدر ضرورت روزی عطا فرما۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:917]
فوائد:
کفاف کا مطلب یہ ہے کہ اتنی روزی جس سے انسان کی ضروریات پوری ہو سکیں اور انسان مقروض نہ ہو اور نہ زیادہ کہ خوب سیر ہو کر کھایا جائے۔
کیونکہ زیادہ مال و دولت ہو تو انسان دنیا کی آسائشوں میں پڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا دین متاثر ہوتا ہے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں کو دنیا کے مشاغل، زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف توجہ دلائیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی لوگوں کے لیے نمونہ تھی، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (الاحزاب: 21)
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ بالا دعا فرمایا کرتے تھے۔ ایک دوسری حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کامیاب وہ ہے جسے اسلام کی ہدایت مل گئی ضرورت کے مطابق رزق مل گیا اور وہ اس پر قانع ہوگیا۔ (مسلم، کتاب الزکاۃ، رقم: 1054)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 917 سے ماخوذ ہے۔