حدیث نمبر: 836
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، نا هَانِئُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ , عَنْ جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ، فَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”تم تسبیح و تہلیل اور تقدیس کیا کرو، اور انگلیوں کے پوروں پر شمار کیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں بلوایا جائے گا، پس غفلت کا شکار نہ ہونا، ورنہ تم رحمت سے بھلا دی جاؤ گی۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الدعوات / حدیث: 836
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الصلاة ، باب التسبيح بالحصي ، رقم : 1501 . سنن ترمذي ، ابواب ادعوات ، باب فى فضل التسبيح والتهليل الخ ، رقم : 3583 . قال الشيخ الالباني : حسن . مسند احمد : 370/6 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ’’تم تسبیح وتہلیل اور تقدیس کیا کرو، اور انگلیوں کے پوروں پر شمار کیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں بلوایا جائے گا، پس غفلت کا شکار نہ ہونا، ورنہ تم رحمت سے بھلا دی جاؤ گی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:836]
فوائد:
سیّدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی الله علیه وسلم یَعْقِدُ التَّسْبِیْحَ بِیَمِیْنِهٖ۔)) (سنن ابي داود، کتاب الوتر، رقم: 1502) ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 836 سے ماخوذ ہے۔