حدیث نمبر: 834
قَالَ إِسْحَاقُ ذُكِرَ لَنَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحِ الْمَكِّيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اسْمُ اللَّهُ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: ﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴾ [البقرة: 163] وَأَوَّلِ آلَ عِمْرَانَ: ﴿الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [آل عمران:1- 2] ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» اور سورہ آل عمران کے شروع کی آیت میں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں ﴿وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ﴾اور سورۂ آل عمران کے شروع کی آیت میں ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:834]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:834]
فوائد:
معلوم ہوا اللہ ذوالجلال کے عظیم ترین نام اسم اعظم کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ جیسا کہ قاسم بن عبدالرحمن دمشقی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ساتھ اللہ ذوالجلال سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، تین سورتوں میں ہے: سورہ بقرہ، سورۃ آلِ عمران اور سورۃ طہ۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3856)
لیکن دوسری سند سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بھی اسی طرح ثابت ہے۔ جیسا کہ سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآنِ مجید کی ان تین سورتوں میں ہے: سورۃ بقرہ، آلِ عمران اور سورۃ طٰہٰ۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 746)
شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سورۃ طہ کی ابتدائی ﴿اِنَّنَیِْ اَنَا اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا﴾ میں اسم اعظم ہے۔ (سلسلة الصحیحة، شرح حدیث نمبر: 746)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اسم اعظم کے تعین میں چودہ اقوال پیش کیے ہیں: (1) هُوَ (2) اَللّٰهُ (3) اَللّٰهُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ (4) اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (5) اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم (6) اَلْحَنَّانُ اَلْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (7) بَدِیْعُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ والْاِکْرَامِ (8) ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ (9) اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ (10) رَبِّ رَبِّ مَا اسْمُ اللّٰهِ الْاَکْبَرُ رَبِّ رَبِّ (11) لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (12) هُوَ اللّٰهُ اَّلِذْی لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (13) هُوَ مَخْفِیٌّ فِی الْاَسْمَاءِ الْحُسْنٰی (14) کَلِمَةُ التَّوْحِیْدِ۔ (فتح الباري: 11؍ 268، 269، حدیث: 6410، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
معلوم ہوا اللہ ذوالجلال کے عظیم ترین نام اسم اعظم کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ جیسا کہ قاسم بن عبدالرحمن دمشقی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ساتھ اللہ ذوالجلال سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، تین سورتوں میں ہے: سورہ بقرہ، سورۃ آلِ عمران اور سورۃ طہ۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3856)
لیکن دوسری سند سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بھی اسی طرح ثابت ہے۔ جیسا کہ سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآنِ مجید کی ان تین سورتوں میں ہے: سورۃ بقرہ، آلِ عمران اور سورۃ طٰہٰ۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 746)
شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سورۃ طہ کی ابتدائی ﴿اِنَّنَیِْ اَنَا اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا﴾ میں اسم اعظم ہے۔ (سلسلة الصحیحة، شرح حدیث نمبر: 746)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اسم اعظم کے تعین میں چودہ اقوال پیش کیے ہیں: (1) هُوَ (2) اَللّٰهُ (3) اَللّٰهُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ (4) اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (5) اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم (6) اَلْحَنَّانُ اَلْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (7) بَدِیْعُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ والْاِکْرَامِ (8) ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ (9) اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ (10) رَبِّ رَبِّ مَا اسْمُ اللّٰهِ الْاَکْبَرُ رَبِّ رَبِّ (11) لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (12) هُوَ اللّٰهُ اَّلِذْی لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (13) هُوَ مَخْفِیٌّ فِی الْاَسْمَاءِ الْحُسْنٰی (14) کَلِمَةُ التَّوْحِیْدِ۔ (فتح الباري: 11؍ 268، 269، حدیث: 6410، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 834 سے ماخوذ ہے۔