حدیث نمبر: 742
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا رَفَعَتْهُ، قَالَ: ((لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے مرفوعاً بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الوصايا / حدیث: 742
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الوصايا ، باب ماجاء فى الوصية للوارث ، رقم : 2870 . سنن ترمذي ، ابواب الوصايا ، باب الاوصية لوارث ، رقم : 2120 . سنن نسائي ، رقم : 3641 . سنن ابن ماجه ، رقم : 2713 . قال الشيخ الالباني : صحيح . مسند احمد : 426/4 . مستدرك حاكم : 435/1 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے مرفوعاً بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:742]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اگر وہ وصیت قرآن وسنت کے مطابق ہو تو وصیت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کو شرعاً وہ حصہ ملے گا جو قرآن وسنت میں ہے، جیسا کہ
سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔‘‘ (سنن ابي داود، رقم: 2870)
لیکن ورثا اجازت دے دیں تو جائز ہے۔ جیسا کہ سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ((اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ الْوَرَثَةُ)) ....’’الا کہ ورثاء چاہیں۔‘‘ (سنن دارقطني: 4؍ 97۔ بیهقی: 6؍ 263)
معلوم ہوا دوسرے ورثاء چاہیں تو وارث کے لیے بھی وصیت درست ہے۔ جمہور علماء اسی کے قائل ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دوسرے ورثاء راضی ہوں تو وصیت درست ہوگی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے عام سے خاص کی صورت ہوتی ہے۔(نیل الاوطار: 4؍ 106)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ان الفاظ کی زیادتی ’’الا کہ ورثاء چاہیں ‘‘ صحیح ہے تو یہ واضح دلیل ہے اور اہل علم نے معنوی اعتبار سے بھی اس سے حجت پکڑی ہے کہ دراصل ممانعت دوسرے ورثاء کے حق کی وجہ سے ہے، اگر وہی جازت دے دیتے ہیں تو پھر ممانعت نہیں۔ (فتح الباري: 6؍ 25)
نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ ورثاء کے لیے وصیت جائز نہیں ہے، لیکن میت کے ورثاء اجازت دے دیں تو جائز ہے۔ (روضۃ الندیہ: 2؍ 679)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 742 سے ماخوذ ہے۔