حدیث نمبر: 733
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرَةِ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَنْبِذُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: كُنَّا نَرْمِي لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ فِي الْغَدِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابونضرہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس طرح نبیذ بنایا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ہم رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجوریں بھگو دیا کرتی تھیں، تو آپ اگلے روز صبح کے وقت اسے پی لیتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس طرح نبیذ بنایا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ہم رات کے وقت آپ کے لیے کھجوریں بھگو دیا کرتی تھیں، تو آپ اگلے روز صبح کے وقت اسے پی لیتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:733]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:733]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نبیذ اگر صبح کو بنائے تو رات کو پی لینی چاہیے، اگر رات کو بنائے تو صبح پی لینی چاہیے۔ صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے، سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی۔ آپ اسے اس دن بھی نوش فرماتے اور دوسرے تیسرے دن بھی، پھر اگر اس میں سے کچھ بچ جاتی تو اسے گرا دیتے۔ (مسلم، رقم: 2004۔ ابوداود، رقم: 3713)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نبیذ اگر صبح کو بنائے تو رات کو پی لینی چاہیے، اگر رات کو بنائے تو صبح پی لینی چاہیے۔ صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے، سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی۔ آپ اسے اس دن بھی نوش فرماتے اور دوسرے تیسرے دن بھی، پھر اگر اس میں سے کچھ بچ جاتی تو اسے گرا دیتے۔ (مسلم، رقم: 2004۔ ابوداود، رقم: 3713)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 733 سے ماخوذ ہے۔