مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الاطعمة— کھانے سے متعلق احکام و مسائل
باب: ناگوار بو والی سبزی کھانے سے اجتناب
حدیث نمبر: 731
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ الْبُقُولِ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ بِهِ كَرِهَهُ فَقَالَ: ((كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِي صَاحِبَيَّ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مہمان ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کوئی (ناگوار بُو والی) سبزی تھی، جب ہم نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا، اور فرمایا: ”اسے کھاؤ، کیونکہ میں تم میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہیں میں اپنے ساتھ (جبریل علیہ السلام) کو تکلیف نہ پہنچاؤں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مہمان ٹھہرے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کوئی (ناگوار بُو والی) سبزی تھی، جب ہم نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا، اور فرمایا: ’۔اسے کھاؤ، کیونکہ میں تم میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہیں میں اپنے ساتھی (جبریل علیہ السلام) کو تکلیف نہ پہنچاؤں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:731]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:731]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا فرشتے بدبو سے نفرت کرتے ہیں۔ لہسن، پیاز، مولی اور گندنا یہ چیزیں حرام نہیں ہیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ سیّدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میرے ہاں قیام کے دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حسب خواہش) اس سے تناول فرما لیتے اور باقی کھانا میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھائے بغیر واپس بھیج دیا، کیونکہ اس کھانے میں لہسن تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حرام تو نہیں، میں اس کی ناگوار بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ حلال چیزوں کی بو کے متعلق اگر اس قدر شرع میں کراہت موجود ہے، تو وہ لوگ جو حقہ اور سگریٹ استعمال کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے منہ اور کپڑوں سے متواتر آتی رہتی ہے، انہیں سوچنا چاہیے۔
حضرت معدان بن ابوطلحہ یعمری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، میں تو ا نہیں برا ہی سمجھتا ہوں، یعنی یہ لہسن اور پیاز۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھا ہے اگر کسی آدمی سے اس (لہسن یا پیاز) کی بو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع (کے میدان) کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ اس لیے جس نے ضرور انہیں کھانا ہو، وہ انہیں پکا کر (ان کی بو) ختم کردے۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3363)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا فرشتے بدبو سے نفرت کرتے ہیں۔ لہسن، پیاز، مولی اور گندنا یہ چیزیں حرام نہیں ہیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ سیّدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میرے ہاں قیام کے دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حسب خواہش) اس سے تناول فرما لیتے اور باقی کھانا میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھائے بغیر واپس بھیج دیا، کیونکہ اس کھانے میں لہسن تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حرام تو نہیں، میں اس کی ناگوار بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ حلال چیزوں کی بو کے متعلق اگر اس قدر شرع میں کراہت موجود ہے، تو وہ لوگ جو حقہ اور سگریٹ استعمال کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے منہ اور کپڑوں سے متواتر آتی رہتی ہے، انہیں سوچنا چاہیے۔
حضرت معدان بن ابوطلحہ یعمری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، میں تو ا نہیں برا ہی سمجھتا ہوں، یعنی یہ لہسن اور پیاز۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھا ہے اگر کسی آدمی سے اس (لہسن یا پیاز) کی بو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع (کے میدان) کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ اس لیے جس نے ضرور انہیں کھانا ہو، وہ انہیں پکا کر (ان کی بو) ختم کردے۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3363)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 731 سے ماخوذ ہے۔