حدیث نمبر: 729
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

ابوبکر بن عبداللہ بن عمر، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مثل روایت کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الاطعمة / حدیث: 729
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابوبکر بن عبداللہ بن عمر، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مثل روایت کرتے ہیں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:729]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا چاہیے، بائیں ہاتھ سے نہیں، کیونکہ ایسا کرنا ممنوع ہے اور اس میں شیطان کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔ جب فاسق و فاجر لوگوں کی مشابہت ممنوع ہے تو شیطان کی مشابہت تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں۔
صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ((یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰهَ وَکُلْ بِیَمِیْنِكَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْكَ)) (بخاري، رقم: 5376۔ مسلم رقم: 2022).... ’’لڑکے بسم اللہ پڑھ اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھا اور اپنے سامنے سے کھا۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 729 سے ماخوذ ہے۔