مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الاطعمة— کھانے سے متعلق احکام و مسائل
باب: اسلام کے ابتدائی دور میں بھوک پیاس کا بیان
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنَ فَرَاهِيجَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.ترجمہ: محمد سرور گوہر
داود بن فراہیج سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
داود بن فراہیج سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:719]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:719]
فوائد:
معلوم ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ابتداء میں بڑی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پھر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین اسلام پر پابندی اور استقامت اختیار کی حتیٰ کہ بعض اوقات ایسی بھی نوبت آجاتی کہ کھجور کھانی بھی میسر نہ ہوتی جیسا کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے اس مال واسباب کا ذکر کیا جو لوگوں کو (پہلے کے مقابلے میں زیادہ) حاصل ہوگیا تھا اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سارا دن بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر جھکے رہتے (تاکہ بھوک کی شدت کم محسوس ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ردی کھجور بھی میسر نہ ہوتی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیتے۔ (مسلم، رقم: 2978)
معلوم ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ابتداء میں بڑی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پھر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین اسلام پر پابندی اور استقامت اختیار کی حتیٰ کہ بعض اوقات ایسی بھی نوبت آجاتی کہ کھجور کھانی بھی میسر نہ ہوتی جیسا کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے اس مال واسباب کا ذکر کیا جو لوگوں کو (پہلے کے مقابلے میں زیادہ) حاصل ہوگیا تھا اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سارا دن بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر جھکے رہتے (تاکہ بھوک کی شدت کم محسوس ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ردی کھجور بھی میسر نہ ہوتی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیتے۔ (مسلم، رقم: 2978)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 719 سے ماخوذ ہے۔