مسند اسحاق بن راهويه
كتاب اللباس و الزينة— لباس اور زینت اختیار کرنے کا بیان
باب: بالوں میں خضاب لگانے کا بیان
اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَامِرِ الْعَقَدِیُّ۔ عَبْدُالْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو۔ نَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اِبْرَاهِیْمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا اَحْسَنَ هٰذَا، ثُمَّ مَرَّ بِاٰخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْکَتْمِ، فَقَالَ: هٰذَا اَحْسَنُ مِنْ هَذَا؟ ثُمَّ مَرَّ بِاٰخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: ہٰذَا اَحْسَنُ مِنْ هَذَا کُلِّهٖ۔ قَالَ: فَکَانَ طَاؤُوْسٌ یَخْضِبُ (بالصفرة).سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گزرے جس نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا (بالوں کو مہندی لگائی ہوئی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے۔“ پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سے زیادہ اچھا ہے۔“ پھر آپ ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے جس نے زرد خضاب کیا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان سب سے اچھا ہے۔“ راوی نے بیان کیا: طاؤس رحمہ اللہ زرد خضاب کیا کرتے تھے۔