مسند اسحاق بن راهويه
كتاب اللباس و الزينة— لباس اور زینت اختیار کرنے کا بیان
باب: عورتوں کو مسجد میں خوشبو لگا کر جانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 713
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَلَا تَمَسُّ طِيبًا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز عشاء پڑھنے آئے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز عشاء پڑھنے آئے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:713]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:713]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جو عورت مسجد میں جا کر نماز پڑھنا چاہتی ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خوشبو لگا کر نہ جائے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی، سو وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔‘‘ (سنن ابوداو، کتاب الترجل، رقم: 4175)
بلکہ ایسی عورت کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی جو خوشبو لگا کر مسجد کی طرف جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت ملی جو خوشبو لگا کر مسجد کی طرف جار ہی تھی۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبار کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے کہا مسجد میں، فرمایا: اسی لیے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں، سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کی طرف چلے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک غسل نہ کرے۔‘‘ (سنن ابن ماجة، ابواب الفتن، رقم: 4002)
جب مسجد کی طرف جاتے ہوئے خوشبو لگانا جائز نہیں تو بازار کی طرف جاتے ہوئے خوشبو لگانا بالاولیٰ منع ہے۔ بلکہ جو خوشبو لگا کر عورتیں نکلتی ہیں۔ حدیث میں ان عورتوں کو زانیہ بدکارہ کہا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:((اَیُّمَا امْرَأَةٍ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ عَلٰی قَوْمٍ فَیُوْجَدُ رِیْحُهَا فَهِیَ زَانِیَةٌ))
’’جو عورت گھر سے خوشبو لگا کر نکلے اور اس سے خوشبو آرہی ہو تو وہ زانیہ ہے۔‘‘ (سنن نسائي، کتاب الزاینة، باب ما یکره للنساء من الطیب، رقم: 5126)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جو عورت مسجد میں جا کر نماز پڑھنا چاہتی ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خوشبو لگا کر نہ جائے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی، سو وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔‘‘ (سنن ابوداو، کتاب الترجل، رقم: 4175)
بلکہ ایسی عورت کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی جو خوشبو لگا کر مسجد کی طرف جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت ملی جو خوشبو لگا کر مسجد کی طرف جار ہی تھی۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبار کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے کہا مسجد میں، فرمایا: اسی لیے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں، سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کی طرف چلے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک غسل نہ کرے۔‘‘ (سنن ابن ماجة، ابواب الفتن، رقم: 4002)
جب مسجد کی طرف جاتے ہوئے خوشبو لگانا جائز نہیں تو بازار کی طرف جاتے ہوئے خوشبو لگانا بالاولیٰ منع ہے۔ بلکہ جو خوشبو لگا کر عورتیں نکلتی ہیں۔ حدیث میں ان عورتوں کو زانیہ بدکارہ کہا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:((اَیُّمَا امْرَأَةٍ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ عَلٰی قَوْمٍ فَیُوْجَدُ رِیْحُهَا فَهِیَ زَانِیَةٌ))
’’جو عورت گھر سے خوشبو لگا کر نکلے اور اس سے خوشبو آرہی ہو تو وہ زانیہ ہے۔‘‘ (سنن نسائي، کتاب الزاینة، باب ما یکره للنساء من الطیب، رقم: 5126)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 713 سے ماخوذ ہے۔