مسند اسحاق بن راهويه
كتاب اللباس و الزينة— لباس اور زینت اختیار کرنے کا بیان
باب: عورتوں کے لباس کا دامن ٹخنوں سے نیچے ہونا چاہیے
حدیث نمبر: 710
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، نا يَزِيدُ أَبُو الْمُهَزَّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ شِبْرًا. قُلْتُ: إِذًا يَخْرُجُ سُوقُهُنَّ. قَالَ: فَذِرَاعٌ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے متعلق فرمایا: ”ایک بالشت۔“ میں نے عرض کیا: تب تو ان کی پنڈلیاں ظاہر ہو جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایک ہاتھ (کافی ہے)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے متعلق فرمایا: ’’ایک بالشت‘‘ میں نے عرض کیا: تب تو ان کی پنڈلیاں ظاہر ہو جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر ایک ہاتھ (کافی ہے)۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:710]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:710]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا عورتوں کو شلوار ٹخنوں سے نیچی رکھنی چاہیے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مرد کی دو حالتیں ہیں: مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر) تک رکھے اور عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباري: 10؍320)
لیکن افسوس موجودہ دور میں عورتیں اپنی شلواریں ٹخنوں سے اوپر رکھتی ہیں اور مرد نیچے۔ حالانکہ مردوں کو ٹخنوں سے اوپر اور عورتوں کو نیچے رکھنے کا حکم ہے، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کی طرح کا لباس پہنے اور اس مرد پر لعنت فرمائی جو عورت کا لباس پہنے۔ (حاکم: 4؍194)
امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ لیکن اگر ہاتھ سے زیادہ عورت کپڑا لٹکائے گی، تو ایسی عورتیں بھی اس وعید میں شامل ہیں جو حدیث میں آئی ہیں۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا عورتوں کو شلوار ٹخنوں سے نیچی رکھنی چاہیے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مرد کی دو حالتیں ہیں: مستحب حالت یہ ہے کہ تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھے اور جائز حالت یہ ہے کہ ٹخنوں (سے اوپر) تک رکھے اور عورتوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔
مستحب یہ ہے کہ مردوں کی جائز حالت سے ایک بالشت زیادہ ہو اور جائز حالت ایک ہاتھ یعنی مردوں کی جائز حالت سے دو بالشت زیادہ۔ (فتح الباري: 10؍320)
لیکن افسوس موجودہ دور میں عورتیں اپنی شلواریں ٹخنوں سے اوپر رکھتی ہیں اور مرد نیچے۔ حالانکہ مردوں کو ٹخنوں سے اوپر اور عورتوں کو نیچے رکھنے کا حکم ہے، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کی طرح کا لباس پہنے اور اس مرد پر لعنت فرمائی جو عورت کا لباس پہنے۔ (حاکم: 4؍194)
امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ لیکن اگر ہاتھ سے زیادہ عورت کپڑا لٹکائے گی، تو ایسی عورتیں بھی اس وعید میں شامل ہیں جو حدیث میں آئی ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 710 سے ماخوذ ہے۔