مسند اسحاق بن راهويه
كتاب اللباس و الزينة— لباس اور زینت اختیار کرنے کا بیان
باب: ریشم اور سونا مردوں کے لیے حرام ہے
حدیث نمبر: 698
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ كَثِيرٍ الْأَسِيدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَرِيرِ أَشَدَّ النَّهْيِ، فَقَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ: إِنَّ هَذَا عَلَيْكَ حَرِيرٌ، قَالَ: فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا حَرِيرٌ، فَقَالَ: إِنَّ سَدَاهُ حَرِيرٌ، قَالَ: فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: مَا شَعَرْتُ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم (پہننے) سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، ایک آدمی نے عبداللہ بن شقیق سے کہا: یہ آپ نے بھی تو ریشم پہن رکھا ہے، انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ریشم نہیں، اس نے کہا: اس کا تانا ریشم کا ہے، عبداللہ بن شقیق نے کہا: مجھے پتہ نہیں چلا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم (پہننے) سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، ایک آدمی نے عبداللہ بن شقیق سے کہا: یہ آپ نے بھی تو ریشم پہن رکھا ہے، انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ریشم نہیں، اس نے کہا: اس کا تانا ریشم کا ہے، عبداللہ بن شقیق نے کہا: مجھے پتہ نہیں چلا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:698]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:698]
فوائد:
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلا شبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا پکڑ کر کہا ’’یہ دونوں اشیاء میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‘‘ (صحیح ابوداود، رقم: 2422)
لیکن کپڑے میں تھوڑا بہت ریشم ہو تو جائز ہے، وہ کڑھائی کی صورت میں ہویا ریشمی کپڑے کے ٹکڑے کی صورت میں لیکن چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو۔
جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ باریک اور موٹے ریشم (کا کپڑا پہننے) سے منع کرتے تھے، مگر جو اتنا سا ہو پھر (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) ایک انگلی سے اشارہ کیا۔ پھر دوسری سے، پھر تیسری سے، پھر چوتھی سے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3593)
جمہور کا یہ موقف ہے کہ ریشم اگر چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو تو جائز ہے۔ (تحفة الاحوذی: 5؍ 384)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلا شبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا پکڑ کر کہا ’’یہ دونوں اشیاء میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‘‘ (صحیح ابوداود، رقم: 2422)
لیکن کپڑے میں تھوڑا بہت ریشم ہو تو جائز ہے، وہ کڑھائی کی صورت میں ہویا ریشمی کپڑے کے ٹکڑے کی صورت میں لیکن چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو۔
جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ باریک اور موٹے ریشم (کا کپڑا پہننے) سے منع کرتے تھے، مگر جو اتنا سا ہو پھر (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) ایک انگلی سے اشارہ کیا۔ پھر دوسری سے، پھر تیسری سے، پھر چوتھی سے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجة، رقم: 3593)
جمہور کا یہ موقف ہے کہ ریشم اگر چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو تو جائز ہے۔ (تحفة الاحوذی: 5؍ 384)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 698 سے ماخوذ ہے۔