حدیث نمبر: 69
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ؟ فَقَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَقُولُونَ: وَالْكَعْبَةِ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا حَلَفْتُمْ فَقُولُوا: وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، ثُمَّ قَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا , قَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، قَالَتْ: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ قَالَ مِنْكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ فَلْيَقُلْ ثُمَّ شِئْتَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

قتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، یہودیوں کا ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آیا تو اس نے کہا: امت محمد! تم بہترین لوگ ہو، کاش کہ تم شرک نہ کرتے، فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو، کعبہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا، پھر فرمایا: ”جب تم قسم اٹھاؤ تو کہو: رب کعبہ کی قسم!“ اس نے پھر کہا: تم اچھے لوگ ہو، اگر تم اللہ کا شریک نہ بناؤ، فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے گا اور جو آپ چاہیں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف فرمایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے جو کہے جو اللہ چاہے گا، تو وہ کہے پھر جو آپ چاہیں گے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 69
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الادب ، باب ، رقم : 4980 . سنن نسائي ، كتاب الايمان والنذور ، باب الحلف بالكعبة ، رقم : 3773 . قال الشيخ الالباني : صحيح . صحيح ابن حبان ، رقم : 5725 . مسند احمد : 393/5»