حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ لِابْنِ يَزِيدَ: أَنَا كُنْتُ أَحَبَّ إِلَى أَبِيكَ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنِ ابْنِي، خَصْلَتَانِ أُوصِيكَ بِهِمَا فَاحْفَظْهُمَا مِنِّي، خَالِصِ الْمُؤْمِنِينَ وَخَالِقِ الْفَاجِرَ فَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرْضَى مِنْكَ بِالْخُلُقِ الْحَسَنِ، وَإِنَّهُ يَحَقُّ عَلَيْنَا أَنْ نُخَالِصَ الْمُؤْمِنَ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

صعصعہ بن صوحان نے ابوزید سے کہا: میں تمہاری والدہ کو تم سے زیادہ محبوب نہیں ہوں، جبکہ تم میری والدہ کو مجھ سے زیادہ محبوب ہو، دو خصلتیں ہیں میں تمہیں ان کی وصیت کرتا ہوں، پس انہیں مجھ سے یاد کر لو، مومن شخص سے خالص دوستی رکھو، فاجر شخص سے اچھا برتاؤ کرو، کیونکہ فاجر شخص اچھے اخلاق کے ذریعے تمہاری بات قبول کرے گا، اور مومن تجھ سے حق رکھتا ہے کہ تم اس سے خالص دوستی رکھو۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 67
تخریج حدیث «اسناده صحيح . شعيب الايمان : 267/6 ، رقم : 8106 . مصنف ابن ابي شيبه : 293/5 . مسند عبدالرزاق 310/2 ، رقم : 291»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
صعصعہ بن صوحان نے ابو زید سے کہا: میں تمہاری والدہ کو تم سے زیادہ محبوب نہیں ہوں، جبکہ تم میری والدہ کو مجھ سے زیادہ محبوب ہو، دو خصلتیں ہیں میں تمہیں ان کی وصیت کرتا ہوں، پس انہیں مجھ سے یاد کر لو، مومن شخص سے خالص دوستی رکھو، فاجر شخص سے اچھا برتاؤ کرو، کیونکہ فاجر شخص اچھے اخلاق کے ذریعے تمہاری بات قبول کرے گا، اور مومن تجھ سے حق رکھتا ہے کہ تم اس سے خالص دوستی رکھو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:67]
فوائد:
(1) معلوم ہوا مومن کے ساتھ خالص اللہ کی رضا کے لیے تعلق ہونا چاہیے اور یہی وہ تعلق ہے جو دنیا و آخرت میں انسان کے کام آئے گا۔
(2).... فاجر کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَهُ وَلَا السَّیِّئَةِ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ﴾ (حم السجدہ: 34)
’’نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتیں برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسے تمہارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔