مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: حقِ مہر آسان رکھنے کی ترغیب
حدیث نمبر: 648
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی، عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ۔ وَهُوَ جَابِرٌ۔ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (خَیْرُ کُنَّ اَیْسَرُکُنَّ) صِدَاقًا۔ قَالَ: فَکَانَ مُجَاهِدٌ یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ دِرْهَمًا فَهُوَ حَلَالٌ۔.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (خواتین) میں سے بہتر وہ ہے جس کا تم میں سے حق مہر آسان تر ہو۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: اگر وہ ایک درہم بھی ہو تو وہ حلال ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
C
فوائد:
صحیح حدیث میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَيْرُ الصِّدَاقِ اَيْسَرُهٗ.» [سنن ابي داود، رقم: 2117۔ حاكم: 2؍ 181۔ صحيح الجامع الصغير، رقم: 3279]
’’بہترین مہر وہ ہے جس کی ادائیگی آسان ہو۔ ‘‘
گویا بہترین حق مہر وہ ہی ہے جس کا ادا کرنا شوہر پر آسان ہو۔ یعنی کم مہر مقرر کرنا ہی بہتر ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا عورتوں کا مہر بہت زیادہ قیمتی مت کرو۔ کیونکہ یہ اگر دنیا میں عزت اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا باعث ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے تم سب سے زیادہ مستحق تھے۔
صحیح حدیث میں ہے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَيْرُ الصِّدَاقِ اَيْسَرُهٗ.» [سنن ابي داود، رقم: 2117۔ حاكم: 2؍ 181۔ صحيح الجامع الصغير، رقم: 3279]
’’بہترین مہر وہ ہے جس کی ادائیگی آسان ہو۔ ‘‘
گویا بہترین حق مہر وہ ہی ہے جس کا ادا کرنا شوہر پر آسان ہو۔ یعنی کم مہر مقرر کرنا ہی بہتر ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا عورتوں کا مہر بہت زیادہ قیمتی مت کرو۔ کیونکہ یہ اگر دنیا میں عزت اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا باعث ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے تم سب سے زیادہ مستحق تھے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 0 سے ماخوذ ہے۔