حدیث نمبر: 645
قَالَ الْحَسَنُ: فَذَکَرْتُ ذٰلِكَ لِطَاؤُوْسٍ، فَقَالَ: اَشْهَدُ اَنِّیْ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَجْعَلُهَا وَاحِدَةً، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةً، وَاِنْ جَمَعَهُنَّ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

حسن رحمہ اللہ نے بیان کیا: میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو انہیں ایک قرار دیتے ہوئے سنا، راوی نے بیان کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک ہی ہے، اگرچہ اس نے انہیں جمع کیا ہو۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 645
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
حسن رحمہ اللہ نے بیان کیا: میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو انہیں ایک قرار دیتے ہوئے سنا، راوی نے بیان کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک ہی ہے، اگرچہ اس نے انہیں جمع کیا ہو۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:645]
فوائد:
مذکورہ روایت سے معلوم ہوا سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 645 سے ماخوذ ہے۔