مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: بیک وقت تین طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 644
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّهٗ قَالَ: اَلَّتِیْ لَمْ یَدْخُلْ بِهَا، اِذَا جُمِعَ الثَّلَاثُ عَلَیْهَا، وَقَعْنَ عَلَیْهَا.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”جس عورت سے شوہر تعلق قائم نہ کرے اور اسے تین طلاقیں اکٹھی دے دی جائیں تو وہ اس پر واقع ہو جائیں گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ’’جس عورت سے شوہر تعلق قائم نہ کرے اور اسے تین طلاقیں اکٹھی دے دی جائیں تو وہ اس پر واقع ہو جائیں گی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:644]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:644]
فوائد:
مذکورہ روایت سے ثابت ہوا سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف یہ تھا کہ اگر دخول نہ ہوا ہو اور تین طلاقیں اکٹھی دی گئیں تو واقع ہوجائیں گی۔ روایت نمبر: 780 میں ہے کہ دخول ہوا ہو یا کہ نہ تین برابر ہیں۔ امام ابوداود رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ عورت تین طلاق سے اپنے شوہر سے جدا ہوجاتی ہے خواہ شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی، جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے، ان کا یہ فتویٰ ایسے ہی ہے جیسے انہوں نے بیع صرف (سونے چاندی کی بیع) کے بارے میں فتویٰ دیا تھا۔ پھر ابن عباسؓ نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا۔ (سنن ابي داود، رقم: 2198)
مذکورہ روایت سے ثابت ہوا سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف یہ تھا کہ اگر دخول نہ ہوا ہو اور تین طلاقیں اکٹھی دی گئیں تو واقع ہوجائیں گی۔ روایت نمبر: 780 میں ہے کہ دخول ہوا ہو یا کہ نہ تین برابر ہیں۔ امام ابوداود رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ عورت تین طلاق سے اپنے شوہر سے جدا ہوجاتی ہے خواہ شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی، جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے، ان کا یہ فتویٰ ایسے ہی ہے جیسے انہوں نے بیع صرف (سونے چاندی کی بیع) کے بارے میں فتویٰ دیا تھا۔ پھر ابن عباسؓ نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا۔ (سنن ابي داود، رقم: 2198)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 644 سے ماخوذ ہے۔